ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جرمنی میں نئی حکومت کیسی ہو گی؟

جرمنی میں نئی حکومت کیسی ہو گی؟

Mon, 25 Sep 2017 22:53:52    S.O. News Service

برلن،25؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نئی جرمن پارلیمنٹ کے لیے24 ستمبر بروز اتوار پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق قدامت پسند سیاستدان انگیلا میرکل اس انتخابی عمل میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی مرتبہ بھی چانسلر بن جائیں گی۔۔24 ستمبر کے وفاقی پارلیمانی انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا قدامت پسند اتحاد (سی ڈی یو/ سی ایس یو) سب سے بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ تاہم2013 کے وفاقی انتخابات کے مقابلے میں اس اتحاد کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد نو فیصد کم ہوئی ہے۔۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) بیس فیصد عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک ہونے والے انتخابات میں اس بار یہ پارٹی اپنی مقبولیت کے نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔۔ اسلام اور مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی پہلی مرتبہ جرمن پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق یہ پارٹی تقریبا دس فیصد عوامی حمایت کے ساتھ آئندہ جرمن پارلیمان میں تیسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) ایک مرتبہ پھر پارلیمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اس پارٹی کو دس اعشاریہ پانچ فیصد عوامی تائید حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں یہ پارٹی پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں ہی ناکام ہو گئی تھی۔۔ ماحول دوست گرین پارٹی اور بائیں بازو کی لیفٹ پارٹی بھی آسانی کے ساتھ پارلیمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کی کارکردگی ویسی ہی رہی، جیسا کے انہوں نے گزشتہ الیکشن میں دکھائی تھی۔۔ ایگزٹ پولز کے مطابق آئندہ جرمن حکومت سازی کی کوششوں میں انگیلا میرکل کی سیاسی پارٹی سی ڈی یو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی نے عندیہ دیا ہے کہ کولیشن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ اپوزیشن میں رہنا ہی پسند کرے گی۔۔ سن دو ہزار تیرہ کے وفاقی جرمن الیکشن کا ٹرن آؤٹ 71.5 فیصد رہا تھا جبکہ سن دو ہزار سترہ کے اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح 75 فیصد رہی۔ناقدین کے مطابق ممکنہ طور پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایف ڈی پی اور گرین کے ساتھ مل کر حکومت سازی کر سکتی ہیں۔ ان سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق نئی جرمن حکومت کے لیے انہی تین پارٹیوں کا اتحاد زیادہ ممکن ہے۔

موجودہ جرمن حکومت میں میرکل کی اتحادی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اب دوبارہ سی ڈی یو کے ساتھ مل کر حکومت سازی کے بجائے ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھرے گی۔ اہم چھ سیاسی جماعتوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام اور مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی سیاسی پارٹی سی ڈی یو کے صدر دفتر میں ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ آئندہ کچھ ہفتے سخت ہوں گے۔ ان کا اشارہ حکومت سازی کے مشکل عمل کی طرف تھا۔ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ کون سی پارٹیاں اتحاد بناتے ہوئے حکومت تشکیل دیں گی۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی کی کامیابی پر متعدد جرمن شہروں میں مظاہروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ میونخ، کولون، ہیمبرگ، فرینکفرٹ، برلن اور ڈوسلڈوف میں ہونے والے مظاہروں میں شرکاء4 نے عوامیت پسندی کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ ادھر جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل نے بھی اے ایف ڈی کے پارلیمان تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اے ایف ڈی کی کامیابی جدید جرمنی کی جمہوریت کے لیے ایک خطرے کی بات ہے۔


Share: